ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی ادبی جہتیں
شاعری ایک الہامی وصف ہے سچا شاعر بیک وقت دین و دنیا کے اسرار کو نہ صرف دریافت کرتا ہے بلکہ ان میں پوشیدہ پہلوؤں کو خوبصورت رنگوں میں اجاگر بھی کرتا ہے ڈاکٹر حبیب الرحمٰن بھی اسی جستجو میں مصروف ہیں وہ پیشے کے اعتبار سے ایک معالج ہیں جو جسمانی تکالیف کا علاج کرتے ہیں مگر انہوں نے انسانی روح کے درد کو بھی محسوس کرنا شروع کر دیا ہے
احساس انسان کے جذبات کا وہ چراغ ہے جو دل کے نہاں خانوں کو منور کرتا ہے یہ چراغ جب کسی صاحب دل کے ہاتھ میں آتا ہے تو اس کی روشنی لفظوں میں ڈھل کر فن اور ادب کی صورت اختیار کر لیتی ہے ڈاکٹر صاحب کی شاعری اسی نور احساس کی جلوہ گری ہے ان کے شعری مجموعے آداب عشق, صدائے عشق٫ دشت تشنگی اور متاع زیست ان کے فکری سفر کے سنگ میل ہیں جن میں محبت, درد احساس اور انسان دوستی کے رنگ نمایاں ہیں
ڈاکٹر صاحب کا انداز بیان دل پزیر ہے وہ الفاظ کو اس لطافت سے برتتے ہیں کہ قاری کے دل پر نقش چھوڑ جاتے ہیں ان کی شاعری میں جذبات کی گرمی بھی ہے اور عقل کی تازگی بھی وہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی صداؤں کو دماغ کے توازن سے مزین کرتے ہیں یوں ان کے اشعار درد و سوز کے باوجود ایک سکون بھری معنویت رکھتے ہیں
جس قدر پیار کی حدت ہوگی
اتنی ہی درد کی شدت ہوگی
دیر سے بھید کھلا الفت میں
اپنے ہی سائے سے وحشت ہوگی
یہ اشعار انسانی جذبے کی گہرائیوں کو عیاں کرتے ہیں جہاں محبت جتنی خالص ہو اس کا دکھ بھی اتنا ہی شدید ہوتا ہے احساس کا یہی درد روح کی تطہیر کا ذریعہ بن جاتا ہے
ڈاکٹر صاحب کی شاعری محض جذبات کی عکاسی نہیں بلکہ فکر و فلسفہ کا حسین امتزاج ہے وہ محبت کو صرف انسانی تعلق تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے قرب الہی کا وسیلہ سمجھتے ہیں ان کے ہاں یہ احساس ایک عبادت کی صورت اختیار کرتا ہے جس میں خودی کی نفی اور فنا کا شعور نمایاں ہے
جس طرح رب العزت نے اس جہان کو تخلیق کے کئی مراحل سے گزارا اسی طرح شاعری کے لیے بھی دل کو جذبات کی تہہ در تہہ کیفیات سے آباد کیا گیا اور ساتھ ہی دماغ کو بطور توازن رکھا گیا تاکہ جذبات کی روانی عقل کے ساحل سے نہ ٹکرا جائے ڈاکٹر صاحب اسی توازن کے شاعر ہیں دل کی دھڑکن بھی ان کے اشعار میں سنائی دیتی ہے اور دماغ کی روشنی بھی
ٹوٹ کے جو بکھر گئے ریزے وہ ڈھونڈتا ہوں میں
دل تو کب کا جل گیا راکھ کریدتا ہوں میں
یہ اشعار انسان کے اندر کے خلا کو ظاہر کرتے ہیں دل کے جل جانے کے بعد بھی شاعر کے ہاتھ میں تلاش باقی ہے جو دراصل زندگی کے تسلسل کی علامت ہے جب دل خاک ہو جاتا ہے تو راکھ میں بھی کسی چنگاری کی امید باقی رہتی ہے شاعر اس امید کو اپنی تلاش کا مرکز بناتا ہے
سوگ مناتا ہوں کبھی محفل دوستاں کا تو
یاد گزشتہ کو کبھی خون سے سینچتا ہوں میں
یہاں شاعر کا درد اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے اب وہ صرف یاد نہیں کرتا بلکہ یاد کو خلوص کے لہو سے سینچتا ہے محفل دوستاں کا سوگ اس بات کا اشارہ ہے کہ محبت نے اسے تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے مگر یہ تنہائی خالی نہیں بلکہ اس میں احساس کی بازگشت گونجتی ہے یہی ڈاکٹر صاحب کی شاعری کا کمال ہے کہ وہ دکھ کو شکوہ نہیں بناتے بلکہ اسے شعور کا درجہ دیتے ہیں ان کے ہاں ہر درد ایک نئی تخلیق کا محرک ہے
پھر نہ رکھا ربط اس کے شہر سے
کیوں رکھیں امید اک بے مہر سے
یہ شعر اس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں دل تسلیم کر لیتا ہے کہ جدائی بھی نصیب کا حصہ ہے یہاں شکوہ نہیں بلکہ ادراک کی روشنی ہے شاعر جان چکا ہے کہ جس دل میں خلوص نہیں وہاں امید رکھنا احساس کی توہین ہے یہی وہ لمحہ ہے جب شاعر کے نزدیک دکھ اپنی خارجی صورت کھو کر داخلی حقیقت میں بدل جاتا ہے محبوب اب کوئی شخص نہیں رہتا بلکہ ایک کیفیت بن جاتا ہے محبت اگر خلوص سے خالی ہو تو ربط رکھنا بے معنی ہے اسی احساس سے جنم لیتی ہے وہ خاموش عظمت جو سچے دل والوں کے چہروں پر وقت کے ساتھ اتر آتی ہے
ڈاکٹر صاحب کے اشعار میں یہ ادراک بارہا جھلکتا ہے کہ وہ محبت کو صرف وصل کی تمنا نہیں سمجھتے بلکہ جدائی کو بھی اس کی تکمیل مانتے ہیں ان کے نزدیک ربط ٹوٹنے سے احساس ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک نئی صورت میں زندہ رہتا ہے دل کی گہرائی میں یاد کی صورت میں یا کبھی لفظ کی صورت میں
جس کو دیکھا نہیں تھا مدت سے
لگ رہا ہے کہ آس پاس ہے آج
یہ شعر جدائی کے بعد کے وصل کا احساس ہے شاعر نے جس کو مدتوں نہ دیکھا آج وہ دل کی خاموشیوں میں موجود ہے یہ وصل ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے محبت جب اپنے ظاہری روپ سے آگے بڑھتی ہے تو احساس کی دنیا میں زندہ رہتی ہے
بالمقابل رہو مرے یونہی
خشک آنکھوں کو سخت پیاس ہے آج
یہاں شاعر کے لہجے میں ایک نرم التجا ہے وہ دید نہیں چاہتا بلکہ قربت کا احساس چاہتا ہے آنکھوں کی پیاس روح کے سکون کی علامت ہے
یہی ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کا کمال ہے کہ وہ لفظوں میں جذبوں کی وہ گرمی سمو دیتے ہیں جو دل کو چھوتی بھی ہے اور بدل بھی دیتی ہے ان کا ہر شعر انسان کے اندر کی ایک پرت کھولتا ہے ان کی شاعری شوق کی آگ بھی ہے اور وصال کی ٹھنڈک بھی
ظلمت رنج جب بڑھی دل کے دیے جلا دیے
نوحہ غم سنا اگر سیل رواں بہا دیئے
یہ اشعار ظاہر کرتے ہیں کہ رنج اب روشنی بن چکا ہے دکھ اب بوجھ نہیں رہا بلکہ تخلیق کی قوت ہے
راه گزار دل میں ہم راہ نشیں ہوئے مگر
پھر وہ چراغ رہ گزر شام پڑے بجھا دیے
یہاں محبت کا لمحہ بھی فنا کی طرف جھکتا ہے مگر اس کی روشنی باقی رہتی ہے ڈاکٹر صاحب کے ہاں بجھنا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے جنم کی تمہید ہے
کوئی خبر کرے انہیں ٹوٹ رہے ہیں سانس اب
آج متاع زیست سے قرض سبھی چکا دیے
یہ شعر فنا کے سکون کو ظاہر کرتا ہے سانسیں رک رہی ہیں مگر لہجہ پرسکون ہے دل مطمئن ہے کہ سب قرض ادا ہو گئے ہیں۔
جا کہو کہ یہ مری زندگی کی شام ہے
سانس رک رہا ہے اب آخری سلام ہے
یہاں محبت الوداع نہیں بلکہ دعا بن گئی ہے
ره نورد شوق اب ہو گیا کنارہ کش
آرزو نکالنا اک خیال خام ہے
اب خواہش خاموش ہو چکی ہے شاعر اس درجے پر پہنچ گیا ہے جہاں ادراک خلوص اور سکون ایک ہو جاتے ہیں
ڈاکٹر صاحب کے اشعار ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ محبت صرف کسی شخص سے نہیں بلکہ اپنے وجود سے مکالمہ ہے میری دعا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ادبی سفر میں ان کے شعری مجموعوں کی صورت میں مزید خوبصورت پراؤں
اتے رہے۔
تصانیف
دل کی سرزمین سے نکلنے والے وہ الفاظ جو کتابوں کی صورت میں امر ہو گئے۔
چار نمایاں کتب — ہر ایک میں ایک الگ فکری اور جذباتی جہان
متاعِ زیست
دشتِ تشنگی
صدائے عشق
آدابِ عشق
ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کے اشعار محض لفظ نہیں، یہ وہ آئینہ ہیں جن میں قاری اپنے دل کی گہرائیوں کو دیکھ سکتا ہے۔ ہر مصرع میں ایک نرمی، ایک درد، اور ایک سچائی جھلکتی ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جذبات بھی خوشبو کی طرح ہوتے ہیں، جو لفظوں سے مہک اٹھتے ہیں۔
زینت فاطمہ
رابطہ کریں
آپ کی آراء، دعوت نامے، سوالات یا محبت بھرے پیغامات کا ڈاکٹر حبیب الرحمٰن خیر مقدم کرتے ہیں۔